Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-A'la — Ayah 9

87:9
فَذَكِّرۡ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكۡرَىٰ ٩
سو تو سمجھا دے اگر فائدہ کرے سمجھانا1
Footnotes
  • [1] تذکیر اور تبلیغ کا فرق:یعنی اللہ نے جب آپ پر ایسے انعام فرمائے، آپ دوسروں کو فیض پہنچائیے اور اپنے کمال سے دوسروں کی تکمیل کیجئے۔ (تنبیہ) اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّکۡرٰی کی شرط اس لئے لگائی کہ تذکیر و وعظ اس وقت لازم ہے جب مخاطب کی طرف سے اس کا قبول کرنا مظنون ہو۔ اور منصب آنحضرت ﷺ کا وعظ و تذکیر ہر شخص کے لئے نہیں۔ ہاں تبلیغ و انذار (یعنی حکم الہٰی کا پہنچانا اور اللہ کے عذاب سے ڈرانا) تاکہ بندوں پر حجت قائم ہو اور عذر جہل و نادانی کا نہ رہے، اتنا باعتبار ہر شخص کے ضرور ہے اس کو عرف میں تذکیر و و عظ نہیں کہتے دعوت و تبلیغ کہتے ہیں۔ شاید اسی لئے بعض مفسرین نے زیادہ واضح الفاظ میں آیت کے معنی یوں کیے ہیں کہ بار بار نصیحت کر (اگر ایک بار کی نصیحت نے نفع نہ کیا ہو) اور ہو سکتا ہے کہ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّکۡرٰی کی شرط محض تذکیر کی تاکید کے لئے ہو یعنی اگر کسی کو تذکیر نفع دے تو تجھ کو تذکیر کرناچاہئے اور یقینی بات ہے کہ تذکیر عالم میں کسی نہ کسی کو ضرور نفع دیگی گو ہر کسی کو نہ دے۔ کما قال تعالٰی وَّ ذَکِّرۡ فَاِنَّ الذِّکۡرٰی تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ (الذاریات۔۵۵) پس ایک امر کا ایسی چیز پر معلق کرنا جس کا وقوع ضروری ہے اس امر کی تاکید کا موجب ہوا۔