Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Ad-Duhaa — Ayah 7

93:7
وَوَجَدَكَ ضَآلّٗا فَهَدَىٰ ٧
اور پایا تجھ کو بھٹکتا پھر راہ سجھائی1
Footnotes
  • [1] ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایتِ کاملہ عطاء کی:جب حضرت جوان ہوئے قوم کے مشرکانہ اطوار اور بیہودہ رسم و راہ سے سخت بیزار تھے اور قلب میں خدائے واحد کی عبادت کا جذبہ پورے زور کے ساتھ موجزن تھا۔ عشق الہٰی کی آگ سینہ مبارک میں بڑی تیزی سے بھڑک رہی تھی۔ وصول الی اللہ اور ہدایت خلق کی اس اکمل ترین استعداد کا چشمہ جو تمام عالم سے بڑھ کر نفس قدسی میں ودیعت کیا گیا تھا۔ اندر ہی اندر جوش مارتا تھا، لیکن کوئی صاف کھلا ہوا راستہ اور مفصل دستورالعمل بظاہر دکھائی نہ دیتا تھا جس سے اس عرش و کرسی سے زیادہ وسیع قلب کو تسکین ہوتی۔ اسی جوش طلب اور فرط محبت میں آپ بے قرار اور سرگرداں پھرتے اور غاروں اور پہاڑوں میں جاکر مالک کو یاد کرتے اور محبوب حقیقی کو پکارتے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے "غارحراء" میں فرشتہ کو وحی دیکر بھیجا اور وصول الی اللہ اور اصلاح خلق کی تفصیلی راہیں آپ پر کھول دیں۔ یعنی دین حق نازل فرمایا۔ مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا الۡاِیۡمَانُ وَلٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا الخ (شوریٰ۔۵۲)۔ (تنبیہ) یہاں ضَآلًّا کے معنی کرتے وقت سورۃ "یوسف" کی آیت قَالُوۡا تَاللّٰہِ اِنَّکَ لَفِیۡ ضَلٰلِکَ الۡقَدِیۡمِ (یوسف۔۹۵) کو پیش نظر رکھنا چاہیئے۔