Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Hajj — Ayah 55

22:55
وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي مِرۡيَةٖ مِّنۡهُ حَتَّىٰ تَأۡتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةً أَوۡ يَأۡتِيَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَقِيمٍ ٥٥
انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے، یا ایک منحوس دن1 کا عذاب نازل ہوجائے
Footnotes
  • [1] اصل میں لفظ”عَقِیْم“ استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ”بانجھ“ ہے۔ دن کو بانجھ کہنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایسا منحوس دن ہو جس میں کوئی تدبیر کار گر نہ ہو، ہر کوشش اُلٹی پڑے، اور ہر اُمید مایوسی میں تبدیل ہو جائے۔ دوسرے یہ کہ وہ ایسا دن ہو جس کے بعد رات دیکھنی نصیب نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں مراد ہے وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہو جائے۔ مثلاً جس روز قومِ نوح پر طوفان آیا، وہ ان کے لیے ”بانجھ“ دن تھا۔ اسی طرح عاد ،ثمود، قومِ لوط، اہلِ مَدیَن، اور دوسرے سب تباہ شدہ قوموں کے حق میں عذابِ الہٰی کے نزول کا دن بانجھ ہی ثابت ہُوا۔ کیونکہ اُس  ”امروز“ کا کوئی ”فردا“ پھر وہ نہ دیکھ  سکے، اور کوئی چارہ گری اُن کے لیے ممکن نہ ہوئی جس سے وہ اپنی قسمت کی بگڑی بنا سکتے۔