Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Hajj — Ayah 67

22:67
لِّكُلِّ أُمَّةٖ جَعَلۡنَا مَنسَكًا هُمۡ نَاسِكُوهُۖ فَلَا يُنَٰزِعُنَّكَ فِي ٱلۡأَمۡرِۚ وَٱدۡعُ إِلَىٰ رَبِّكَۖ إِنَّكَ لَعَلَىٰ هُدٗى مُّسۡتَقِيمٖ ٦٧
ہر اُمّت1 کے لیے ہم نے ایک طریقِ عبادت 2 مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے، پس اے محمدؐ ، وہ اِس معاملے میں تم سے جھگڑا نہ کریں۔3 تم اپنے ربّ کی طرف دعوت دو، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو۔4
Footnotes
  • [1] یعنی جس طرح پہلے انبیاء اپنے اپنے دَور کی اُمتوں کے لیے ایک”منسک“ لائے تھے، اسی طرح اس دَور کی اُمت کے لیے تم ایک منسک لائے ہو۔ اب کسی کو تم سے نزاع کرنے کا حق  حاصل نہیں ہے ،کیونکہ اس دور کے لیے یہی منسک ِ حق ہے۔ سُورۂ جاثیہ میں اِس مضمون کو یوں بیان فرمایا گیا ہے:  ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلیٰ شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَا تَّبِعْھَا وَلَا تَتَّبِعْ  اَھْوَ آءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ (آیت 18) ”پھر (انبیاء بنی اسرائیل کے بعد) اَے محمدؐ ہم نے تم کو دین کے معاملے میں ایک شریعت (طریقے) پر قائم کیا ، پس تم اسی کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے“۔ (مفصل تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم، الشوریٰ ، حاشیہ نمبر 2۰)۔
  • [2] یہاں مَنْسَک کا لفظ قربانی کے معنی میں نہیں بلکہ پورے نظامِ عبادت کےمعنی میں ہے۔ اس سے پہلے اسی لفظ کا ترجمہ”قربانی کا قاعدہ“ کیا گیا تھا، کیونکہ وہاں بعد کا فقرہ”تاکہ لوگ اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں“ اس کے وسیع معانی میں سے صرف قربانی مراد ہونے کی تصریح کر رہا تھا۔ لیکن یہاں اسے محض ”قربانی“ کے معنی میں لینے کی کو ئی وجہ نہیں  ہے۔ بلکہ عبادت کو بھی اگر”پرستش“ کے بجائے”بندگی“ کے وسیع تر مفہوم میں لیا جائے تو مدعا سے قریب تر ہو گا۔  اس طرح منسک (طریقِ زندگی) کے وہی معنی ہوجائیں گے جو شریعت اور منہاج کے معنی ہیں، اور یہ اسی مضمون کا اعادہ ہو گا جو سورۂ مائدہ میں فرمایا گیا ہے کہ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْ عَتً وَّمِنْھَاجًا،  ”ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی“ (آیت 48)۔
  • [3] یعنی ہر نبی کی اُمّت۔
  • [4] یہ فقرہ اس مطلب کو پوری طرح واضح کر رہا ہے جو پچھلے فقرے کی تفسیر میں ابھی ہم بیان کر آئے ہیں۔