Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Hajj — Ayah 78

22:78
وَجَٰهِدُواْ فِي ٱللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِۦۚ هُوَ ٱجۡتَبَىٰكُمۡ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلدِّينِ مِنۡ حَرَجٖۚ مِّلَّةَ أَبِيكُمۡ إِبۡرَٰهِيمَۚ هُوَ سَمَّىٰكُمُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ مِن قَبۡلُ وَفِي هَٰذَا لِيَكُونَ ٱلرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيۡكُمۡ وَتَكُونُواْ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِۚ فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱعۡتَصِمُواْ بِٱللَّهِ هُوَ مَوۡلَىٰكُمۡۖ فَنِعۡمَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَنِعۡمَ ٱلنَّصِيرُ ٧٨
اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔1 اُس نے تمہیں اپنے کام کےلیے چُن لیا ہے2 اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔3 قائم ہو جاوٴ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملّت پر4۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ”مسلم“ رکھا تھا اور اس (قرآن)میں بھی (تمہارا یہی نام ہے5)۔ تاکہ رسولؐ تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ۔6 پس نماز قائم کرو ، زکوٰة دو، اور اللہ سے وابستہ ہو جاوٴ۔7 وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار
Footnotes
  • [1] ”تمہارا“ کا خطاب مخصوص طور پر سرف اُنہی اہلِ ایمان کی طرح نہیں ہے جو اِس آیت کے نزول کے وقت موجود تھے ، یا اس کے بعد اہلِ ایمان کی صف میں داخل ہوئے، بلکہ اس کے مخاطب تمام وہ لوگ ہیں جو آغازِ  تاریخِ انسانی سے توحید ، آخرت، رسالت اور کتبِ الہٰی کے ماننے والے رہے ہیں۔ مدّعا یہ ہےکہ اِس ملّتِ حق کے ماننے والے پہلے بھی ”نوحی“،”ابراہیمی“،”موسوی“،”مسیحی“ وغیرہ نہیں کہلاتے تھے بلکہ ان کا نام”مسلم“(اللہ کا تابع فرمان) تھا، اور آج بھی وہ ”محمدی“ نہیں بلکہ”مسلم“ ہیں۔ اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں کے لیےیہ سوال معمّا بن گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرووں کا نام قرآن سے پہلے کس کتاب میں مسلم رکھا گیا تھا۔
  • [2] اگرچہ اسلام کو مِلّت نوح، ملّتِ موسیٰ، ملّتِ عیسیٰ بھی اسی طرح کہا جا سکتا ہے جس طرح ملّتِ ابراہیم۔ لیکن قرآن مجید میں اس کو بار بار ملّتِ ابراہیم کہہ کر اس کے اتباع کی دعوت تین وجوہ سے دی گئی ہے۔ ایک یہ کہ قرآن کےاوّلین مخاطب اہلِ عرب تھے اور وہ حضرت ابراہیم سے جس  طرح مانوس تھے کسی اور سے نہ تھے۔ ان کی تاریخ ، روایات اور معتقدات میں جس شخصیت کا رسُوخ و اثر رچا ہوا تھا  وہ حضرت ابراہیم ہی کی شخصیت تھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ہی وہ شخص تھے جن کی بزرگی پر یہودی، عیسائی، مسلمان ، مشرکینِ عرب ، اور شرق اوسط کے صابِئی، سب متفق تھے۔ انبیاء میں کوئی دوسرا ایسا نہ تھا اور نہ ہے جس پر سب کا اتفاق ہو۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ان سب ملّتوں کی پیدائش سےپہلے گزرے ہیں۔ یہودیت، عیسائیت اور صابِئیت کے متعلق تو معلوم ہی ہے کہ سب بعد کی پیداوار ہیں۔ رہے مشرکینِ عرب ، تو وہ بھی  یہ مانتے تھے کہ ان کے ہاں بُت پرستی کا رواج عَمرو بن  لُحَیّ  سے شروع ہوا جو بنی خُزاعہ کا سردار تھا اور مُآب (موآب) کے علاقہ سے ہُبل نامی بت لے آیا تھا۔ اُس کا زمانہ زیادہ سے زیادہ پانچ چھ سو سال قبل مسیح کا ہے۔ لہٰذا یہ مِلّت  بھی حضرت ابراہیمؑ کے صدیوں بعد پیدا ہوئی۔ اس صورت حال میں قرآن جب کہتا ہے کہ ان ملّتوں کے بجائے مِلّت ابراہیم ؑ کو اختیار کرو ، تو وہ دراصل اس حقیقت پر متنبہ کرتا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم ؑ برحق اور برسرِ ہدایت تھے  ، اور ان ملتوں میں سے کسی کے پیرو نہ تھے ، تو لامحالہ پھر وہی ملّت اصل مِلّتِ حق ہے نہ کہ یہ بعد کی مِلّتیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اُسی مِلّت کی طرح ہے۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، البقرہ، حواشی 134 – 135۔ آل عمران ، حواشی 58 – 79۔ جلد دوم، النحل، حاشیہ 12۰۔
  • [3] یعنی تمہاری زندگی  کو ان تمام بے جا قیود سے آزاد کر دیا گیا ہے جو پچھلی اُمتوں کے فقہیوں او فریسیوں اور پاپاؤں نے عائد کر دی تھیں۔ نہ یہاں فکر و خیال پر وہ پابندیاں ہیں جو علمی ترقی میں مانع ہوں اور نہ عملی زندگی پر وہ پابندیاں ہیں جو تمدّن اور معاشرے کی ترقی میں رکاوٹ بنیں۔ ایک سادہ سہل عقیدہ و قانون تم کو دیا گیا ہے جس کو لے کر تم جتنا آگے چاہو بڑھ سکتے ہو۔ یہاں جس مضمون کو ثبوتی و ایجابی انداز میں بیان  کیا گیا ہے وہی ایک دوسری جگہ سلبی انداز میں ارشاد ہوا ہے کہ یَاْ مُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰئِثَ وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَ ھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ،  ”یہ رسول ان کو جانی پہچانی نیکیوں کا حکم دیتا ہے ، اور ان بُرائیوں سے روکتا ہے جن سے فطرتِ انسانی انکار کرتی ہے، اور وہ چیزیں حلال کرتا ہے جو پاکیزہ ہیں اور وہ چیزیں حرام کرتا ہے جو گندی ہیں اور ان پر سے وہ بھاری بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ زنجیریں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے“ (اعراف۔ آیت 157)۔
  • [4] جہاد سے مراد محض ”قتال“(جنگ) نہیں ہے، بلکہ یہ لفظ جدوجہد اور کشمکش اور انتہائی سعی و کوشش  کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر جہاد اور مجاہد میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ مزاحمت کرنے والی کچھ طاقتیں ہیں جن کے مقابلے میں یہ جدوجہد  مطلوب ہے۔ اس اس کے ساتھ فی اللہ کی قید یہ متعین کر دیتی ہے کہ مزاحمت کرنے والی طاقتیں وہ ہیں جو اللہ بندگی اور اس کی رضا جوئی میں ، اور اس کی راہ پر چلنے میں مانع ہیں، اور جدوجہد کا مقصُود یہ ہے کہ ان کی مزاحمت کو شکست دے کر آدمی خود بھی  اللہ کی ٹھیک ٹھیک بندگی  کرے اور دنیا میں بھی اس کا کلمہ بلند اور کفر و الحاد کے کلمے پست کر دینے لیے جان لڑا دے۔ اس مجاہدے کا اوّلین ہدف آدمی کا اپنا نفس امّارہ ہے جو ہر وقت خدا سے بغاوت کرنے کے لیے زور لگاتا رہتا ہے اور آدمی کو ایمان و طاعت کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب تک اس کو مسخر نہ کر لیا جائے، باہر کسی مجاہدے کا امکان نہیں ہے۔ اسی لیے ایک جنگ سے واپس آنے والے غازیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا    قد متم خیر مقدم من الجھاد الاصغر الی الجھاد الاکبر۔”تم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آگئے ہو“۔ عرض کیا گیا  وہ بڑا جہاد کیا ہے؟ فرمایا   مجاھدۃ العبد ھواہ۔”آدمی کی خود اپنی خواہشِ نفس کےخلاف جدوجہد“۔ اس کے بعد جہاد کا وسیع تر میدان پوری دنیا ہے جس میں کام کرنے والی تمام بغاوت کیش اور بغاوت آموز اور بغاوت انگیز طاقتوں کے خلاف دل اور دماغ اور جسم اور مال کی ساری قوتوں کے ساتھ سعی و جہد کرنا و ہ حقِ جہاد ہے جسے ادا کرنے کا یہاں مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
  • [5] یا دوسرے الفاظ میں اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ ہدایت اور قانونِ زندگی بھی اسی سے  لو، اطاعت بھی  اسی کی کرو، خوف بھی اسی کا رکھو، امیدیں بھی اسی سے وابستہ کرو ، مدد کے لیے بھی اسی کی آگے ہاتھ پھیلاؤ، اور اپنے توکل و اعتماد کا سہارا بھی اسی کی ذات کو بناؤ۔
  • [6] تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، البقرہ، حاشیہ 144۔ اس سے زیادہ شرح و بسط کے ساتھ اِس مضمون پر ہم نے اپنے رسالۂ ”شہادت حق“ میں روشنی ڈالی ہے۔
  • [7] یعنی تمام نوعِ انسانی میں سے تم لوگ اُس خدمت کے لیے منتخب کر لیے گئے ہو جس کا اوپر  ذکر کیا گیا ہے۔ اس مضمون کو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلًا سورۂ بقرہ میں فرمایا جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا (آیت 143)۔ اور سورۂ آل ِ عمران میں فرمایا کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِ جَتْ لِلنَّاسِ (آیت 11۰)۔ یہاں اس امر پر بھی متنبہ کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت منجملہ اُن آیات کے ہے جو صحابہ کرام کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں اور اُن لوگوں کی غلطی ثابت کرتی ہیں جو صحابہ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس آیت کے براہِ راست مخاطب صحابہ ہی ہیں۔ دوسرے لوگوں کو اس خطاب بالتبع پہنچتا ہے۔