Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Mu'minun — Ayah 91

23:91
مَا ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ مِن وَلَدٖ وَمَا كَانَ مَعَهُۥ مِنۡ إِلَٰهٍۚ إِذٗا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهِۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ ٩١
اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے،1 اور کوئی دوسرا خدا اُس کے ساتھ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق کو لے کر الگ ہو جاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔2 پاک ہے اللہ اُن باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں
Footnotes
  • [1] یعنی یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ کائنات کی مختلف قوتوں اور مختلف حصوں کے خالق اور مالک الگ الگ خدا ہوتے اور پھر ان کے درمیان ایسا مکمل تعاون ہوتا جیسا کہ تم اس پورے نظامِ  عالم کی بے شمار قوتوں اور بے حدو حساب چیزوں میں ، اَن گنت تاروں اور سیّاروں میں پا رہے ہو۔ نظام کی باقاعدگی  اور اجزائے نظا م کی ہم آہنگی اقتدار  کی مرکزیت و وحدت پر خود دلالتت کر رہی ہے۔ اگر اقتدار بٹا ہوا ہو تا تو اصحابِ اقتدار  میں اختلاف رونما ہو نا یقینًا ناگزیر تھا۔ اور یہ اختلاف ان کے درمیان جنگ اور تصادم تک پہنچے بغیر نہ رہ سکتا تھا ۔ یہی مضمون سورۂ انبیاء میں اس طرح بیان ہوا  ہے کہ   لَوْ کَانَ فِیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا، (آیت 22) ” اگر زمین اور آسمان میں اللہ کے سوا دوسرے  خدا بھی ہوتے تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا“۔ اور یہی استدلال سُورۂ بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ   لَوْ کَانَ  مَعَہٗ اٰلِھَۃٌ کَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّا بْتَغَوْ ا اِلٰی ذِی الْعَرْ شِ سَبِیْلًا  o (آیت 42) ”اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے ،جیسا کہ یہ لوگ  کہتے ہیں، تو ضرور وہ مالکِ عرش کے مقام پر پہنچنے کی کوشش کرتے“۔ ( تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جدل دوم ، بنی اسرائیل، حاشیہ نمبر 47۔ جلد سوم، الانبیاء ، حاشیہ نمبر 22)۔
  • [2] یہاں کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ارشاد محض عیسائیت کی تردید میں ہے۔ نہیں ، مشرکین عرب بھی اپنے معبودوں کو خدا کی اولاد قرار دیتے تھے ، اور دنیا کے اکثر مشرکین اس گمراہی ہیں ان کے شریک حال رہے ہیں۔ چونکہ عیسائیوں کا عقیدۂ ”ابن اللہ“ زیادہ مشہور ہو گیا ہے ا س لیے بعض اکابر مفسرین تک  کو یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ یہ آیت اسی کی تردید میں وارد ہوئی ہے۔ حالانکہ ابتدا سے روئے سخن کفارِ مکّہ کی طرف ہے اور آخر تک ساری تقریر کے مخاطب وہی ہیں۔ اس سیاق و سباق میں یکایک عیسائیوں کی طرف کلام کا رُخ پھر جانا  بے معنی ہے۔ البتہ ضمنًا اس میں اُن تمام لوگوں کے عقائد کی تردید ہو گئی ہے جو خد ا سے اپنے معبودوں یا پیشواؤں کا نسب ملاتے ہیں، خواہ وہ عیسائی ہوں یا مشرکین ِ عرب یا کوئی  اور۔