Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naml — Ayah 10

27:10
وَأَلۡقِ عَصَاكَۚ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهۡتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنّٞ وَلَّىٰ مُدۡبِرٗا وَلَمۡ يُعَقِّبۡۚ يَٰمُوسَىٰ لَا تَخَفۡ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ ٱلۡمُرۡسَلُونَ ١٠
اور پھینک تُو ذرا اپنی لاٹھی۔“ جُونہی کہ موسیٰ ؑ نے دیکھا لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے1 تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مُڑ کر بھی نہ دیکھا۔”اے موسیٰؑ ، ڈرو نہیں۔ میرے حضُور رسُول ڈرا نہیں کرتے2
Footnotes
  • [1] یعنی میرے حضور اس امر کی کوئی خطرہ نہیں ہے کہ رسول کو کوئی گزند پہنچے۔ رسالت کے منصبِ عظیم پر مقرر کرنے کے لیے جب میں کسی کو اپنی پیشی میں بالتا ہوں  تو اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوتا ہوں۔ اس لیے خواہ کیسا ہی کوئی غیر معمولی معاملہ پیش آئے رسول کو بے خوف اور مطمئن رہنا چاہیے کہ اُس کے لیے وہ کسی طرح ضرر رساں نہ ہوگا۔
  • [2] سورہ اعراف اور سورہ شعراء میں اس کے لیے ثُعبان (اژدہے) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور یہاں اسے ”جان “کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جو چھوٹے سانپ کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسامت میں وہ اژدہا تھا، مگر اس کی حرکت کی تیزی ایک چھوٹے سانپ جیسی تھی۔ اسی مفہوم کو سورہ طٰہٰ میں حَیَّۃٌ تَسْعٰی (دوڑتے ہوئے سانپ) کے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔