Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naml — Ayah 11

27:11
إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنَۢا بَعۡدَ سُوٓءٖ فَإِنِّي غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١١
اِلّا یہ کہ کسی نے قصور کیا ہو1۔ پھر اگر بُرائی کے بعد اُس نے بھلائی سے (اپنے فعل کو)بدل لیا تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں2
Footnotes
  • [1] یعنی قصور کرنے والا بھی اگر توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کرلے اور بُرے عمل کے بجائے نیک عمل کرنے لگے تو میرے ہاں اس کے لیے عفو و درگزر کا دروازہ کھلا ہے ۔ اس موقع پر یہ بات ارشاد فرمانے سے مقصود ایک تنبیہ بھی تھی اور بشارت بھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نادانستگی میں ایک قبطی کو قتل کر کے مصر سے نکلتے تھے۔ یہ ایک قصور تھا جس کی طرف لطیف اشارہ فرما دیا گیا۔ پھر جس وقت یہ قصور اچانک بلا ارادہ ان سے سر زد ہوا تھا اس کے بعد فوراً ہی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لی تھی کہ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِی۔ (اے پر وردگار ، میں اپنے  نفس پر ظلم کر گزرا مجھے معاف فرمادے) اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت انہیں معاف فرمادیا تھا، فَغَفَرَلَہٗ ( القصص، آیت1۶) اب یہاں اُسی معافی کی بشارت انہیں دی گئی ہے۔ گویا مطلب اس تقریر کا یہ ہوا کہ اے موسیٰ، میرے حضور تمہارے لیے ڈرنے کی ایک وجہ تو ضرور ہوسکتی تھی، کیونکہ تم سے ایک قصور سر زد ہو گیا تھا، لیکن جب تم اس برائی کو بھلائی سے بدل چکے ہو تو  میرے پاس تمہارے لیے اب مغفرت اور رحمت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کوئی سزا دینے کے لیے اس وقت میں نے تمہیں نہیں بلایا ہے بلکہ بڑے بڑے معجزے دے کر میں تمہیں ایک کارِ عظیم پر بھیجنے والا ہوں۔
  • [2] یہ استثناء متصل بھی ہو سکتا ہے اور منقطع بھی۔ متصل ہونے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ خوف کی معقول وجہ اگر ہو سکتی ہے تو یہ کہ رسول سے کوئی قصور سرزد ہوا ہو۔ اور منقطع ہونے کی صورت میں مراد یہ ہوگی کے میرے حضور تو کسی کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے جب تک کہ آدمی قصور وار نہ ہو۔