Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naml — Ayah 3

27:3
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ ٣
جو نماز قائم کرتے اور زکوٰة دیتے ہیں1، اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پُورا یقین رکھتے ہیں2
Footnotes
  • [1] یعنی قرآن مجید کی یہ آیات رہنمائی بھی صرف اُنہی لوگوں کی کرتی ہیں اور انجام نیک کی خوشخبری بھی صرف انہی لوگوں کو دیتی ہیں جن میں دو خصوصیات پائی جاتی ہوں: ایک یہ کہ وہ ایمان لائیں۔ اور ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کر لیں، خدائے واحد کو اپنا ایک ہی الٰہ اور رب مان لیں ، قرآن کو خدا کی کتاب تسلیم کر لیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بر حق مان کر اپنا پیشوا بنا لیں، اور یہ عقیدہ بھی  اختیار کر لیں کہ اس زندگی کے بعد  ایک دوسری زندگی ہے جس میں ہم  کو اپنے اعمال کا حساب دینا اور جزائے اعمال سے دو چار ہونا ہے ۔ دوسری خصوصیت ان کی یہ ہے کہ وہ اِن چیزوں کو محض مان کر نہ رہ جائیں بلکہ عملاً اتباع و اطاعت کے لیے آمادہ ہوں۔ اور اس آمادگی کی اوّلین علامت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ یہ دونوں شرطیں جو لوگ پوری کردیں گے انہی کو قرآن کی آیات دنیا میں زندگی کا سیدھا راستہ بتائیں گی، اس راستہ کے ہر مرحلے میں ان کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں گی، اس کے ہر موڑ پر انہیں غلط راہوں کی طرف جانے سے بچائیں گی، اور ان  کو یہ اطمینان بخشیں گی کہ راست روی کے نتائج دنیا میں خواہ کچھ بھی ہوں، آخر کا ر ابدی اور دائمی فلاح اِسی کی بدولت انہیں حاصل ہوگی اور وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی سے سرفراز ہوں گے ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک معلم کی تعلیم سے وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو اس پر اعتماد کر کے واقعی اس کی شاگردی قبول کر لے اور پھر اس کی ہدایات کے مطابق کام بھی کر ے۔ ایک ڈاکٹر سے استفادہ وہی مریض کر سکتا ہے جو اسے اپنا معالج بنائے اور دوا اور پر ہیز وغیرہ کے معاملہ میں اس کی ہدایات پر عمل کرے۔ اسی صورت میں معلم اور ڈاکٹر یہ اطمینان دلا سکتے ہیں  کہ آدمی کو نتائجِ مطلوبہ حاصل ہوں گے۔           بعض لوگوں نے اس آیت میں یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ اخلاق کی پاکیزگی اختیار کریں۔ لیکن قرآن مجید میں اقامتِ صلٰوۃ کے ساتھ ایتاءِ زکوٰۃ کا لفظ جہاں بھی آیا ہے ، اس سے مراد وہ زکوٰۃ ادا کر نا ہے جو نماز کے ساتھ اسلام کا دوسرا رکن ہے ۔ علاسہ بریں زکوٰۃ کے لیے ایتاء کا لفظ استعمال ہوا ہے جو زکوٰۃِ مال ادا کرنے کے معنی متعین کر دیتا ہے  ، کیونکہ عربی زبان میں پاکیزگی اختیار کرنے  کے لیے تَزَکّی کا لفظ بولا جاتا ہے  نہ کہ ایتاء زکوٰۃ۔ دراصل یہاںً  جو بات ذہن نشین کر نی مقصود ہے  وہ یہ کہ قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ایمان کے ساتھ عملاً اطا عت و اتباع کا رویہ اختیار کرنا بھی ضروری ہے، اور اقامتِ صلوٰۃ و ایتاء زکوٰۃ وہ پہلی علامت ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ آدمی نے واقعی اطاعت قبول کر لی ہے ۔ یہ علامت جہاں غائب ہوئی وہاں فوراً یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آدمی سرکش ہے ، حاکم کو حاکم چاہے اس نے مان لیا ہو، مگر حکم کی پیروی کے لیے وہ تیار نہیں ہے ۔
  • [2] اگر چہ آخرت کا عقیدہ ایمانیات میں شامل ہے، اور اس بنا پر” ایمان لانے والوں“سے مراد ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہیں جو توحید اور رسالت کے سا تھ آخرت پر بھی ایمان لائیں، لیکن ایمانیات کے ضمن میں اس کے آپ سے آپ شامل ہونے کے با وجود یہاں اس عقیدے کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے خاص طور پر زور دے کر اسے الگ بیان کیا گیا ہے ۔ اس سے یہ ذہن نشین کرنا مقصود ہے کہ جو لوگ آخرت کے قائل نہ ہوں، ان کے لیے اس قرآن کے بتائے ہوئے استے پر چلنا بلکہ اس پر قدم رکھنا بھی محال ہے ۔ کیونکہ اس طرزِ فکر کے لوگ طبعاً اپنا معیارِ خیر و شر صرف اُنہی نتائج سے متعین کرتے ہیں جو اِس دنیا میں ظاہر ہوتے یا ہو سکتے ہیں۔ اور ان کے لیے کسی ایسی نصیحت و ہدایت کو قبول کرنا ممکن نہیں ہوتا جو انجامِ اُخروی کو سودوزیاں اور نفع و نقصان کا معیار قرار دے کر خیر و شر کا تعین کرتی ہو۔ ایسے لوگ اول تو انبیاء علیہم السلام کی تعلیم پر کان ہی نہیں دھرتے ، لیکن اگر کسی وجہ سے وہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں شامل ہو بھی جائیں تو آخرت کا یقین نہ ہونے کے باعث ان کے لیے ایمان و اسلام کے راستے پر ایک قدم چلنا بھی مشکل ہوتا ہے ۔ اس راہ میں پہلی ہی آزمائش جب پیش آئے گی، جہاں دنیوی فائدے اور اُخروی نقصان کے تقاضے انہیں دو مختلف سمتوں میں کھینچیں گے تو وہ بے تکلف دنیا کے فائدے کی طرف کھیچ جائیں گے اور آخرت کے نقصان کی ذرہ برابر پروا نہ کریں گے ، خواہ زبان سے وہ ایمان کے کتنے ہی دعوے کر تے رہیں۔