جب وہ (ملکہ کا سفیر)سلیمانؑ کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا”کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔1 تمہارا ہدیہ تمہی کو مبارک رہے
Footnotes
[1]
اس جملے سے مقصود اظہار فخر و تکبر نہیں ہے۔ اصل مدعا یہ ہے کہ مجھے تمہارا مال مطلوب نہیں ہے بلکہ تمہارا ایمان مطلوب ہے ۔ یا پھر کم سے کم جو چیزیں چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم ایک صالح نظام کے تابع ہو جاؤ۔ اگر تم ان دونوں باتوں میں سے کسی کے لیے راضی نہیں ہو تو میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ مال و دولت کی رشوت لے کر تمہیں اس شرک اور اس فاسد نظامِ زندگی کے معاملہ میں آزاد چھوڑدوں۔ مجھے میرے رب نے جو کچھ دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے کہ میں تمہارے مال کا لالچ کروں۔