Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naml — Ayah 47

27:47
قَالُواْ ٱطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَۚ قَالَ طَٰٓئِرُكُمۡ عِندَ ٱللَّهِۖ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ تُفۡتَنُونَ ٤٧
انہوں نےکہا”ہم نے تو تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو بدشگونی کا نشان پایا ہے۔“1 صالحؑ نے جواب دیا”تمہارے نیک و بدشگون کا سرِشتہ تو اللہ کے پاس ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔“2
Footnotes
  • [1] یعنی بات وہ نہیں ہے جو تم نے سمجھ رکھی ہے ۔ اصل معاملہ جسے اب تک تم نہیں سمجھے ہو یہ ہے کہ میرے آنے سے تمہارا امتحان شروع ہو گیا ہے۔ جب  تک میں نہ آیا تھا، تم اپنی جہالت میں ایک ڈگر پر چلے جا رہے تھے۔ حق اور باطل کا کوئی کھلا امتیاز سامنے نہ تھا۔ کھرے اور کھوٹے کی پر کھ کا کوئی معیار نہ تھا۔ بد تر سے بد تر لوگ اونچے ہو رہے تھے، اور اچھی سے اچھی صلاحیتوں کے لوگ خاک میں ملے جا رہے تھے۔ مگر اب ایک کسوٹی آگئی ہے جس پر تم سب جانچے اور پرکھے جا ؤ گے۔ اب بیچ میدا ن میں ایک ترازوں رکھ دیا گیا ہے  جو ہر ایک کو اس کے وزن کے لحاظ سے تو لے گا۔ اب حق اور باطل آمنے سامنے موجود ہیں۔ جو حق کو قبول کر ے گا وہ بھاری اترے گا خواہ آج تک اس کی کوڑی بھی  بھی قیمت نہ رہی ہو۔ اور جو باطل پر جمے گا اس کا وزن رتی بھر  بھی نہ رہے گا چاہے وہ آج تک امیر الامراء ہی بنا رہا ہو۔ اب فیصلہ اس پر نہیں ہوگا کہ کون کس خاندان کا ہے، اور کس کے ذرائع و وسائل کتنے ہیں ، اور کون کتنا زور رکھتا ہے، بلکہ اس پر ہوگا کہ کون سیدھی طرح صداقت کو قبول کر تا ہے اور کون جھوٹ کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کر دیتا ہے۔
  • [2] ان کے اس قول کا ایک مطلب یہ ہے کہ تمہاری یہ تحریک ہمارے لیے سخت منحوس ثابت ہوئی ہے، جب سے تم نے اور تمہارے ساتھیوں نے دینِ آبائی کے خلاف یہ بغاوت شروع کی ہے ہم پر آئے دن کوئی نہ کوئی مصیبت نازل ہوتی رہتی ہے ، کیونکہ ہمارے معبود ہم سے ناراض ہو گئے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ قول اکثر اُن مشرک قوموں کے اقوال سے مشابہ ہے جو اپنے انبیاء کو منحوس قرار دیتی تھیں۔ چنانچہ سورہ یٰسین میں ایک قوم کا ذکر آتا ہے  کہ اس نے اپنے انبیاء سے  کہا اِنّا تَطَیَّرْ نَا بِکُمْ”ہم  نے تم کو منحوس پایا ہے “(آیت18)۔یہی بات فرعون کی قوم حضرت موسٰیؑ کے متعلق کہتی تھی:فَاِذَا جَآ ءَتْھُمُ الْحَسَنَۃُ قَا لُوْ آ لَنَا ھٰذِہٖ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ ۔”جب ان پر کوئی اچھا وقت آتا تو کہتے کہ ہمارے لیےیہی  ہے اور جب کوئی مصیبت آجاتی تو موسٰیؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست کو اس کا ذمہ دار ٹھیراتے“(الاعراف، آیت13۰)۔ قریب قریب ایسی ہی باتیں مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی کہی جاتی تھیں۔           دوسرا مطلب اس قول کا یہ ہے کہ تمہارے آتے ہی ہماری قوم میں پھوٹ پڑ گئی ہے ۔ پہلے ہم ایک قوم تھے جو ایک دین پر مجتمع تھی۔ تم ایسے سبز قدم آئے کہ بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا  اور بیٹا باپ سے کٹ گیا۔ اس طرح قوم کے اندر ایک نئی قوم اٹھ کھڑی ہونے کا انجام ہمیں اچھا نظر نہیں آتا۔ یہی وہ الزام تھا جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین آپ کے خلاف بار بار پیش کرتے تھے۔ آپ کی دعوت کا آغاز ہوتے ہی سردارانِ قریش کا جو وفد ابو طالب کے پاس گیا تھا اس نے یہی کہا تھا کہ ”اپنے اِس بھتیجے کو ہمارے حوالہ کر دو جس نے تمہارے دین اور تمہارے باپ دادا کے دین کی مخالفت کی ہے اور تمہاری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے اور ساری قوم کو بے وقوف قرار دیا ہے“۔(ابن ہشام جلد اول، ص285)۔ حج کے موقعہ پر جب کفارمکہ کو اندیشہ ہوا کہ باہر کے زائرین آکر کہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے متاثر نہ ہو جائیں تو انہوں نے با ہم مشورہ کرنے کے بعد یہی  طے کیا کہ قبائل عرب سے کہا جائے:”یہ شخص جا دو گر ہے ، اس کے جادو کا اثر یہ ہوتا ہے کہ بیٹا باپ سے ، بھائی بھائی سے ، بیوی شوہر سے ، اور آدمی اپنے سارے خاندان سے کٹ جاتا ہے“۔(اطب ہشام۔ص289)۔