اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پَرلے سِرے سے دوڑتا ہوا آیا1 اور بولا ”موسیٰؑ ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں۔“
Footnotes
[1]
یعنی اس دوسرے جھگڑے میں جب قتل کا راز فاش ہو گیا اور اس مصری نے جا کر مخبری کر دی تب یہ واقعہ پیش آیا۔