Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Qasas — Ayah 4

28:4
إِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلَ أَهۡلَهَا شِيَعٗا يَسۡتَضۡعِفُ طَآئِفَةٗ مِّنۡهُمۡ يُذَبِّحُ أَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيِۦ نِسَآءَهُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ ٤
واقعہ یہ کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی1اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔2 ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کر تا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔3 فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا
Footnotes
  • [1] بائیبل میں اس کی جو تشریح ملتی ہے وہ یہ ہے:           تب مصر میں ایک نیا بادشاہ ہوا جو یوسف کو نہیں جانتا تھا۔ اور اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ دیکھو اسرائیلی ہم سے زیادہ اور قوی ہو گئے ہیں سو آؤ ہم ان کے ساتھ حکمت سے پیش آئیں ایسانہ ہو کہ جب وہ اور زیادہ ہو جائیں اور اس وقت جنگ چھڑ جائے تو وہ ہمارے دشمنوں سے مل کر ہم سے لڑیں اور ملک سے نکل جائیں۔ اس لیے انہوں نے ان پر بیگار لینے والے مقرر کیے جو ان سے سخت کام لے کر انہیں ستائیں۔ سو انہوں نے فرعون کے لیے ذخیرے کے شہر پتُوم اور رَعمسَیس بنائے۔۔۔۔ اور مصریوں نے بنی اسرائیل پر تشدد کر کے ان سے کام کروایا اور انہوں نے ان سے سخت محنت سے گارا اور اینٹ بنوا بنوا کر اور رکھیت میں ہر قسم کی خدمت لے کر ان کی زندگی تلخ کی۔ ان کی سب خدمتیں جو وہ ان سے کراتے تھے تشدد کی تھیں۔۔۔۔ تب مصر کے بادشاہ عبرانی دائیوں سے ۔۔۔۔ باتیں کیں اور کہا کہ جب عبرانی(یعنی اسرائیلی)عورتوں کے تم بچہ جناؤ اور ان کو پتھر کی بیٹھکوں پر بیٹھی دیکھو تو اگر بیٹا ہو تو اسے مار ڈالنا اور اگر بیٹی ہو تو جیتی رہے“۔(خروج ، باب1۔ آیت8۔1۶)۔           اس سے معلوم ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا دور گزر جانے کے بعد مصر میں ایک قوم پر ستانہ انقلاب ہوا تھا اور قبطیوں کے ہاتھ میں جب دوبارہ اقتدار آیا تو نئی قوم پرست حکومت نے بنی اسرائیل کا زور توڑنے کی پوری کوشش کی تھی۔ اس سلسلے میں صرف اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا گیا کہ اسرائیلیوں کو ذلیل و خوا ر کیا جاتا اور انہیں ادنیٰ درجے کی خدمات کے لیے مخصوص کر لیا جاتا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ بنی اسرائیل کی تعداد گھٹائی جائے اور ان کے لڑکوں کو قتل کر کے صرف ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے تا کہ رفتہ رفتہ ان کی  عورتیں قبطیوں کے تصرف میں آتی جائیں اور ان سے اسرائیل کے بجائے قبطی نسل پیدا ہو ۔ تلمود اس کی مزید تفصیل یہ دیتی ہے  کہ حضرت یوسف کی وفات پر ایک صدی سے کچھ زیادہ مدّت گزر جانے کے بعد یہ انقلاب ہوا تھا۔ وہ بتاتی ہے  کہ نئی قوم پر ست حکومت نے پہلے تو بنی اسرائیل کو ا ن کی زرخیز زمینوں اور ان کے مکانات اور جائدادوں سے محروم کیا۔ پھر انہیں حکومت کے تمام مناسب سے بے دخل کیا۔ اس کے بعد بھی جب قبطی حکمرانوں نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل اور ان کے ہم مذہب مصری کافی طاقت ور ہیں تو انہوں نے اسرائیلیوں کو ذلیل و خوار کرنا شروع کیا اور ان سے سخت محنت کے کام قلیل معاوضوں پر یا بلا معاوضہ  لینے لگے ۔ یہ تفسیر ہے قرآن کے اس بیان کی کہ مصر کی آبادی کے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا۔ اور سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی آلِ فرعون بنی اسرائیل کو سخت عذاب دیتے تھے۔(یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوٓ ْءَ الْعَذَابِ)           مگر بائیبل اور قرآن دونوں اس ذکر سے خالی ہیں کہ فرعون سے کسی نجومی نے یہ کہا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا  ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں فرعونی اقتدار کا تختہ اُلٹ جائے گا اور اسی خطرے کو روکنے کے لیے فرعون نے اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ یا فرعون نے کوئی خوفناک خواب دیکھا تھا اور اس کی تعبیر یہ دی گئی تھی کہ ایک لڑکا بنی اسرائیل میں ایسا اور ایسا پیدا ہونے والا ہے ۔ یہ افسانہ تلمود اور دوسری اسرائیلی روایات سے ہمارے مفسرین نے نقل کیا ہے (ملاحظہ ہو جیوش انسائیکلو پیڈیا، مضمون”موسیٰ“اور (The Talmud Selection s.p. 124-23 )۔
  • [2] یعنی اس کی حکومت کا قاعدہ یہ نہ تھا کہ قانون کی نگاہ میں ملک کے سب باشندے یکساں ہوں اور سب کو برابر کے حقوق دیے جائیں، بلکہ اس نے تمدّن و سیاست کا یہ طرز اختیار کیا کہ ملک کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کیا جائے، کسی کو مراعات و امتیازات دے کر حکمراں گروہ ٹھیرا یا جائے اور کسی کو محکوم بنا کر دبا یا اور پیسا اور لُوٹا جائے۔           یہاں کسی کو یہ شبہہ لاحق نہ ہو کہ اسلامی حکومت بھی تو مسلم اور ذمّی کے درمیان تفریق کرتی ہے اور ان کے حقوق و اختیارات ہر حیثیت سے یکساں نہیں رکھتی ۔ یہ شبہہ اس لیے غلط ہے کہ اس فرق کی بنیاد فرعونی تفریق کے بر عکس نسل، رنگ ، زبان، یا طبقاتی امتیاز پر نہیں ہے بلکہ اُصول اور مسلک کے اختلاف پر ہے ۔ اسلامی نظامِ حکومت میں ذمّیوں اور مسلمانوں کے درمیان قانونی حقوق میں قطعاً کوئی فرق نہیں ہے۔ تمام تر فرق صرف سیاسی حقوق میں ہے ۔ اور اس فرق کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک اصولی حکومت میں حکمراں جماعت صرف وہی ہو سکتی ہے  جو حکومت کے بنیادی اصولوں کی حامی ہو۔ اس جماعت میں ہر وہ شخص داخل ہو سکتا ہے  جو اس کے اصولوں کو مان لے ، اور ہر وہ شخص اس سے خارج ہو جاتا ہے جو ان اصولوں کا منکر ہو جائے۔ آخر اس تفریق میں اور اُس فرعونی طرزِ تفریق میں کیا وجہ مشابہت ہے جس کی بنا پر محکوم نسل کا کوئی فرد کبھی حکمراں گروہ شامل نہیں ہو سکتا۔ جس میں محکوم  نسل کے لوگوں کو سیاسی اور قانونی حقوق تو درکنار بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں ہوتے، حتّٰی کہ زندہ رہنے کا حق بھی ان سے چھین لیا جاتا ہے۔ جس میں محکوموں کے لیے کسی حق کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوتی، تمام فوائد و منافع اور حسنات و درجات صرف حکمراں قوم کے لیے مختص ہوتے ہیں، اور یہ مخصوص حقوق صرف اسی شخص کو حاصل ہوتے ہیں جو حکمراں قوم میں پیدا ہو جائے۔
  • [3] اصل لفظ عَلَا فِی الْاَرْضِ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے زمین میں سراُٹھایا، باغیانہ روش اختیار کی ، اپنی اصل حیثیت یعنی بندگی کے مقام سے اُٹھ کر خود مختیاری اور خدا وندی کا روپ دھار لیا، ماتحت بن کر رہنے کے بجائے بالا دست بن بیٹھا، اور جبار و متکبّرین کر ظلم ڈھانے لگا۔