ہم موسیٰؑ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک تمہیں سُناتے ہیں،1 ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں۔2
Footnotes
[1]
یعنی جو لوگ ماننے کے لیے تیار ہی نہ ہوں ان کو سنانا تو بےکار ہے ۔ البتہ جنہوں نے ہٹ دھرمی کا قفل اپنے دلوں پر چڑھا نہ رکھا ہو وہ اس گفتگو کے مخاطب ہیں۔
[2]
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ (رکوع۶)۔ الاعراف(رکوع13 تا 1۶) یونس (رکوع8۔9)۔ ہود (رکوع9)۔ بنی اسرائیل(رکوع12)۔ مریم (رکوع4)۔ طٰہٰ(رکوع1۔4)۔ المومنون(رکوع3)الشعراء(رکوع2۔4)۔ النمل(رکوع1)۔ العنکبوت(رکوع4)۔ المومن(رکوع3۔5) الزخرف (رکوع5) ۔الدخان(رکوع1)۔الذاریات (رکوع2)۔النازعات(رکوع1)۔