Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-'Ankabut — Ayah 15

29:15
فَأَنجَيۡنَٰهُ وَأَصۡحَٰبَ ٱلسَّفِينَةِ وَجَعَلۡنَٰهَآ ءَايَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ١٥
پھر نُوحؑ کو اور  کشتی والوں1 کو ہم نے بچا لیا اور اُسے دنیا والوں کے لیے ایک نشانِ عبرت بنا کر رکھ دیا۔2
Footnotes
  • [1] اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس ہولناک عقوبت کو یا اس عظیم الشان واقعہ کو بعد والوں کے لیے نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔ لیکن یہاں اور سورۂ قمر میں  یہ بات جس طریقہ سے بیان فرمائی گئی ہے  اس سے متبادر یہی ہو تا ہے کہ وہ نشانِ عبرت خود وہ کشتی تھی  جو پہاڑ کی چوٹی پر صدیوں موجود رہی  اور بعد کی نسلوں کو خبر دیتی رہی  کہ  اس سرزمین میں کبھی ایسا طوفان آیا تھا  جس کو بدولت یہ کشتی پہاڑ پر جا ٹِکی ہے۔ سورۂ قمر میں اس کے متعلق فرمایا گیا ہے: وَحَمَلْنَا ہُ عَلیٰ ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍo تَجْرِیْ بَاَ عْیُنِنَا جَزَآءٍ لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ o  وَلَقَدْ تَّرَکْنٰھآ  اٰیَۃً فَھَلْ مِنْ مُّدَّ کِرٍo (آیات 15-13)۔   ” اور ہم نے نوح ؑ کو سوار کیا تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر ، وہ چل رہی تھی ہماری نگرانی میں اُس شخص کے لیے جزاء کے طور پر جس کا انکار کر دیا گیا تھا، اور ہم نے اُسے چھوڑ دیا ایک نشانی بنا کر  ، پس  ہے کوئی سبق لینے والا؟“ سورۂ قمر کی اِس آیت کی تفسیر میں ابن جریر نے قتادہ کی یہ روایت نقل کی ہے  کہ عہدِ صحابہ میں جب مسلمان الجزیرہ کے علاقہ میں گئے تو  انہوں  نے کوہِ جودی پر (اور ایک روایت کی رُو سے باقِرویٰ نامی بستی کے قریب) اس کشتی کو دیکھا ہے۔ موجودہ زمانہ میں بھی وقتاً فوقتاً یہ اطلاعات اخبارات میں آتی رہتی ہیں کہ کشتی نوحؑ کو تلاش کرنے کے لیے مہمات بھیجی جا رہی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بسا اوقات ہوائی جہاز جب کوہستان اراراط پر سے گزرے ہیں تو ایک چوٹی پر انہوں نے ایسی چیز دیکھی ہے جو ایک کشتی سے مشابہ ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 47۔ ہود ، حاشیہ 4۶)۔
  • [2] یعنی ان لوگوں کو جو حضرت نوحؑ پر ایمان لائے تھے اور جنہیں کشتی میں سوار ہونے کی اللہ تعالیٰ نے اجازت دی تھی۔ سُورۂ ہود میں اس کی تصریح ہے: حَتّٰیٓ اِذَا جَآ ءَ اَمْرُنَا  وَفَا رَ التَّنُّوْرُ قُلْنَا احْمِلْ فِیْھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبْقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰ مَنَ وَمَآ اٰمَنْ مَعَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلٌ (آیت 4۰)۔ ”یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور اُبل پڑا تو ہم نے کہا کہ (اے نوحؑ) اِس کشتی میں سوار کر لے ہو قسم (کے جانوروں) میں سے ایک ایک جوڑا، اور اپنے گھر والوں کو سوائے اُن کے جنہیں ساتھ نہ لینے کا پہلے حکم دیا گیا ہے، اور اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، اور اُس کے ساتھ بہت ہی کم  لوگ ایمان لائے تھے۔“