Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-'Ankabut — Ayah 17

29:17
إِنَّمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡثَٰنٗا وَتَخۡلُقُونَ إِفۡكًاۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَمۡلِكُونَ لَكُمۡ رِزۡقٗا فَٱبۡتَغُواْ عِندَ ٱللَّهِ ٱلرِّزۡقَ وَٱعۡبُدُوهُ وَٱشۡكُرُواْ لَهُۥٓۖ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ١٧
تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پُوج رہے ہو وہ تو محض بُت ہیں اور تم ایک جھُوٹ گھڑ رہے ہو۔1 درحقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اللہ سے رزق مانگو اور اسی کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔2
Footnotes
  • [1] یعنی تم یہ بُت نہیں گھڑ رہے ہو بلکہ ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو۔ ان بتوں کا وجود خود ایک جھوٹ ہے ۔ اور پھر تمہارے یہ عقائد کہ یہ دیویاں اور دیوتا ہیں ، یا خدا کے اوتار یا اس کی اولاد ہیں، یا خدا کے مقرب اور اس کے ہاں شفیع ہیں، یا یہ کہ ان میں سے کوئی شفا دینے والا اور کوئی اولاد بخشنے والا اور کوئی روزگار دلوانے والا ہے، یہ سب  جھوٹی باتیں ہیں جو تم لوگوں نے اپنے وہم و گمان سے تصنیف کرلی ہیں۔ حقیقت  اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ یہ محض بُت ہیں بے جان ، بے اختیار اور بے اثر۔
  • [2] ان چند فقروں میں حضرت ابراہیمؑ  نے بُت پرستی  کے خلاف تمام معقول دلائل سمیٹ کر  رکھ دیے ہیں ۔ کسی کو معبود بنانے کے لیے لا محالہ کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے۔ ایک معقول وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی ذات میں معبودیت کا کوئی استحقاق رکھتا ہو۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ آدمی کا خالق ہو اور آدمی اپنے وجود کے لیے اس کا رہینِ منت ہو۔ تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ آدمی کی پرورش کا سامان کرتا ہو اور اسے رزق ، یعنی متاعِ زیست بہم پہنچاتا ہو۔ چوتھی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آدمی کا مستقبل اس کی عنایات سے وابستہ ہو اور آدمی کو اندیشہ ہو کہ اس کی ناراضی مول لے کر وہ اپنا انجام خراب کر لے گا ۔ حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا کہ ان چاروں وجوہ میں سے کوئی وجہ بھی  بت پرستی کی حق میں نہیں ہے بلکہ ہر ایک خالص خدا پرستی کا تقاضا کرتی ہے۔ ” یہ محض بُت ہیں“ کہہ  کر اُنہوں نے پہلی وجہ کو ختم کر دیا، کیونکہ جو نِرا بُت ہو  اس کو معبود ہونے کا آخر کیا ذاتی استحقاق  حاصل ہو سکتا ہے۔ پھر یہ کہہ کر کہ  ” تم ان  کے خالق ہو“ دوسری وجہ بھی ختم کر دی ۔ اس کے بعد تیسری وجہ کو یہ فرما کر ختم کیا کہ وہ تمہیں کسی نوعیت کا کچھ بھی رزق نہیں دے سکتے۔ اور آخری بات یہ ارشاد فرمائی کہ تمہیں پلٹنا تو  خدا کی طرف ہے  نہ کہ اِن بتوں کی طرف، اس لیے تمہارا انجام اور تمہاری عاقبت سنوار نا یا بگاڑنا بھی اِن کے اختیار میں نہیں صرف خدا کے اختیار میں ہے۔ اس طرح شرک کا پورا ابطال  کر کے حضرت والا نے یہ بات ان پر واضح کر دی کہ جتنے وجوہ سے بھی انسان کسی کو معبود قرار دے سکتا ہے وہ سب کے سب اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا کسی کی عبادت کے مقتضی نہیں ہیں۔