کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو،1 اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بُرے کام کرتے ہو؟“2 پھر کوئی جواب اُس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا”لے آ اللہ کا عذاب اگر تُو سچا ہے۔“
Footnotes
[1]
یعنی فحش کام چھپ کر بھی نہیں کرتے بلکہ عَلانیہ اپنی مجلسوں میں ایک دوسرے کے سامنے اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ یہی بات سورۂ نمل میں فرمائی ہے اَتَاْ تُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ۔”کیا تم ایسے بگڑ گئے ہو کہ دیکھنے والی آنکھوں کے سامنے فحش کاری کرتے ہو۔“
[2]
یعنی ان سے شہوت رانی کرتے ہو، جیسا کہ سورۂ اعراف میں ہے اِنَّکُمْ لَتَاْ تُوْنَ الرِّجَالَ شَھْوَ ۃً مِنْ دُوْنِ النِّسَآ ءِ۔ ”تم خواہش ِ نفس پوری کر نے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو۔“