Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-'Ankabut — Ayah 33

29:33
وَلَمَّآ أَن جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوطٗا سِيٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعٗاۖ وَقَالُواْ لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهۡلَكَ إِلَّا ٱمۡرَأَتَكَ كَانَتۡ مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ ٣٣
پھر جب ہمارے فرستادے لُوطؑ کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوا۔1 اُنہوں نے کہا”نہ ڈرو اور نہ رنج کرو۔2 ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے ، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے
Footnotes
  • [1] یعنی ہمارے معاملہ میں نہ اس بات سے ڈرو کہ یہ لوگ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ اس  بات کے لیے فکر مند ہو کہ ہمیں ان سے کیسے بچایا جائے۔ یہی موقع تھا جب فرشتوں نے حضرت لوطؑ پر یہ راز فاش کیا کہ وہ انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں جنہیں اس قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ سورۂ ہُود میں اس کی تصریح ہے کہ جب لوگ حضرت لوطؑ کے گھر میں گھسے چلے آرہے تھے اور آپ نے محسوس کیا کہ اب آپ کسی طرح بھی اپنے مہمانوں کو ان سے نہیں بچا سکتے تو آپ پریشان ہو  کر چیخ اُٹھے کہ لَوْ اَنَّ لِیْ  بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْٓ اِلیٰ رُکْنٍ شَدِیْدٍ،  ”کاش میرے پاس تمہیں ٹھیک کردینے کی طاقت ہوتی یا کسی زور آور کی حمایت میں پا سکتا۔“ اس وقت فرشتوں نے کہا یَا لُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا اِلَیْکَ، ”اے لوط، ہم تمہارے ربّ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ، یہ تم تک ہر گز نہیں پہنچ سکتے۔“
  • [2] اس پریشانی اور دل تنگی کی وجہ یہ تھی کہ فرشتے بہت خوبصورت نوخیز لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ حضرت لوطؑ اپنی قوم کے اخلاق سے واقف تھے، اس لیے ان کے آتے ہی وہ پریشان ہو گئے کہ میں اپنے اِن مہمانوں کو ٹھیراؤں تو اس بد  کردار قوم سے ان کو بچانا مشکل ہے، اور نہ ٹھیراؤں تو یہ بڑی بے مروّتی ہے جسے شرافت گوارا نہیں کرتی۔  مزید برآں یہ اندیشہ بھی  ہے کہ اگر میں ان مسافروں کو اپنی پناہ میں نہ لوں گا تو رات انہیں کہیں اور گزارنی پڑے گی اور اس کے معنی  یہ ہوں گے کہ گویا میں نے خود انہیں بھیڑیوں کے حوالہ کیا۔ اس کے بعد کا قصہ یہاں بیان نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات سورۂ ہُود ، الحجر اور القمر میں بیان ہوئی  ہیں کہ ان لڑکوں کی آمد کی خبر سُن کر شہر کے بہت سے  لوگ حضرت لُوطؑ کے مکان پر ہجوم کر کے آگئے اور اصرار کرنے لگے کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری کے لیے ان کے حوالے کر دیں۔