Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-'Ankabut — Ayah 32

29:32
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطٗاۚ قَالُواْ نَحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَن فِيهَاۖ لَنُنَجِّيَنَّهُۥ وَأَهۡلَهُۥٓ إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ كَانَتۡ مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ ٣٢
ابراہیمؑ نے کہا”وہاں تو لُوطؑ موجود ہے۔“1 انہوں نے کہا”ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون کون ہے۔ ہم اُسے ، اور اُس کی بیوی کے سوا اس کے باقی گھر والوں کو بچا لیں گے۔“ اس کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔2
Footnotes
  • [1] اس عورت کے متعلق سورۂ تحریم (آیت 1۰) میں بتایا گیا ہے کہ یہ حضرت لوطؑ کی وفادار نہ تھی، اِسی وجہ سے اس کے حق میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ بھی، ایک نبی کی بیوی ہونے کے باوجود، عذاب میں مبتلا  کر دی جائے ۔ اغلب یہ ہے کہ حضرت لوطؑ ہجرت کے بعد جب اُردن کے علاقے میں آکر آباد ہوئے ہوں گے تو انہوں نے اسی قوم میں شادی کر لی ہو گی۔ لیکن ان کے صحبت میں ایک عمر گزار دینے کے بعد بھی یہ عورت ایمان نہ لائی اور اس کی ہمدردیاں اور دلچسپیاں اپنی قوم ہی کے ساتھ وابستہ رہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں رشتہ داریاں اور برادریاں کوئی چیز نہیں ہیں، ہر شخص کے ساتھ معاملہ اس کے اپنے ایمان  و اخلاق کی بنیاد پر  ہوتا ہے ، اس لیے پیغمبر کی بیوی ہونا اس کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو سکا اور اس کا انجام اپنے شوہر کے ساتھ ہونے کے بجائے اپنی اُس قوم کے ساتھ ہُوا جس کے ساتھ اس نے اپنا دین و اخلاق وابستہ کر رکھا تھا۔
  • [2] ”سُورۂ ہُود میں اس قصّے کا ابتدائی حصّہ یہ بیا ن کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیمؑ فرشتوں کو انسانی شکل میں دیکھ کر ہی گھبرا گئے، کیونکہ اس شکل میں فرشتوں کا آنا کسی خطرناک مہم کا پیش خیمہ ہُوا کرتا ہے۔ پھر جب انہوں نے آپ کو بشارت دی اور آپ کی گھبراہٹ دور ہو گئی اور آپ کو معلوم ہُوا کہ یہ مہم قومِ لوطؑ کی طرف جارہی ہے تو آپ اس قوم کے لیے بڑے اصرار کے ساتھ رحم کی درخواست کرنے لگے ( فَلَمَّا ذَھَبَ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ الرَّوْعُ وَجَآ ءَ تْہُ الْبُشْرٰی یُجَا دِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍ اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ)۔ مگر یہ درخواست قبول نہ  ہوئی اور فرمایا گیا کہ اس معاملہ میں اب کچھ نہ کہو، تمہارے رب کا فیصلہ ہو چکا ہے اور یہ عذاب اب ٹلنے والا نہیں ہے (یآِٰ بْرٰ ھِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَآ اِنَّہٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّکَ وَاَنَّھُمْ اٰتِیْھِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ)۔ اس جواب  سے جب حضرت ابراہیمؑ کو یہ امید باقی نہ رہی کہ قومِ لوطؑ کی مہلت میں کوئی اضافہ ہو سکے گا، تب انہیں حضرت لوطؑ کی فکر لاحق ہوئی اور انہوں نے وہ بات عرض کی جو یہاں نقل کی گئی ہے کہ  ”وہاں تو لوطؑ موجود ہے۔“ یعنی یہ عذاب اگر لوطؑ کی موجودگی میں نازل ہوا تو وہ اور اُن کے  اہل و عیال  اس سے کیسے محفوظ رہیں گے۔