Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ar-Rum — Ayah 21

30:21
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنۡ خَلَقَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجٗا لِّتَسۡكُنُوٓاْ إِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُم مَّوَدَّةٗ وَرَحۡمَةًۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٢١
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں1 تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو2 اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی۔3 یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں
Footnotes
  • [1] یعنی خالق کا کمال ِ حکمت یہ ہے کہ اس نے انسان کی صرف ایک صِنف نہیں بنائی، بلکہ اسے دو صنفوں(Sexes )  کی شکل میں پیدا کیا جو انسانیت میں یکساں ہیں، جن کی بناوٹ کا بنیادی  فارمولا بھی یکساں ہے، مگر دونوں ایک دوسرے سے مختلف جسمانی ساخت، مختلف ذہنی و نفسی اوصاف، اور مختلف جذبات و داعیات لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ اور پھر ان کے درمیان یہ حیرت انگیز مناسبت رکھ دی گئی ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا پورا جوڑ ہے، ہر ایک کا جسم اور اس کے نفسیات و داعیات دوسرے کے جسمانی و نفسیاتی تقاضوں کا مکمل جواب  ہیں۔ مزید براں وہ خالقِ حکیم اِن دونوں صنفوں کے افراد کو آغازِ آفرینش سے برابر تناسب کے ساتھ پیدا کیے چلا جا رہا ہے  کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دنیا کی کسی قوم یا کسی خطۂ زمین میں صرف لڑکے ہی لڑکے پیدا ہوئے ہوں، یا کہیں کسی قوم میں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی چلی گئی ہوں۔ یہ ایسی چیز ہے  جس میں کسی انسانی تدبیر کا قطعًا کوئی دخل نہیں ہے۔ انسان ذرہ برابر بھی نہ اِس معاملہ میں اثر انداز ہو سکتا ہے کہ لڑکیاں مسلسل ایسی زنا نہ خصوصیات اور لڑکے مسلسل ایسی مردانہ  خصوصیات لیے ہوئے  پیدا ہوتے  رہیں جو ایک دوسرے کا ٹھیک جوڑ ہوں، اور نہ اِس معاملہ  ہی میں اس کے پاس اثر انداز ہونے کا کوئی ذریعہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کی پیدائش اس طرح مسلسل ایک تناسب کے ساتھ ہوتی چلی جائے۔ ہزارہا سال سے کروڑوں اور اربوں انسانوں کی پیدائش میں اس تدبیر و انتظام کا اتنے متناسب طریقے سے پیہم جاری رہنا اتفاقاً بھی نہیں ہو سکتا، اور یہ بہت سے خداؤں کی مشترک تدبیر کا نتیجہ بھی نہیں ہو سکتا۔ یہ چیز صریحًا اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ ایک خالقِ حکیم، اور ایک ہی خالقِ حکیم نے اپنی غالب حکمت وقدرت سے ابتداءً مرد اور عورت کا ایک موزوں ترین ڈیزائن بنایا، پھر اس بات کا انتظام کیا کہ اس ڈیزائن کے مطابق بے حد و حساب مرد اور بے حد و حساب عورتیں اپنی الگ الگ انفرادی خصوصیات لیے ہوئے دنیا بھر میں ایک تناسب  کے ساتھ پیدا ہوں۔
  • [2] محبت سے مراد یہاں جنسی محبت (Sexual Love ) ہے جو مرد اور عورت کے اندر جذب و کشش کی ابتدائی محرک بنتی ہے  اور پھر انہیں ایک دوسرے سے چسپاں کیے رکھتی ہے ۔ اور رحمت سے مراد وہ روحانی تعلق ہے جو ازدواجی زندگی میں بتدریج ابھرتا ہے، جس کی بدولت وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ، ہمدرد و غم خوار اور شریکِ رنج و راحت بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب جنسی محبت پیچھے جا پڑتی ہے اور بڑھاپے میں یہ جیون ساتھی کچھ جوانی سے بھی بڑھ کر ایک دوسرے کے حق میں رحیم و شفیق ثابت ہوتے ہیں۔ یہ دو مثبت طاقتیں ہیں جو خالق نے اُس ابتدائی اضطراب کی مدد کے لیے انسان کے اندر پیدا کی ہیں جس کا ذکر اوپر گزرا ہے۔ وہ اضطراب تو صرف سکون چاہتا ہے اور اس کی تلاش میں مرد و عورت کو ایک دوسرے کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ دو طاقتیں آگے بڑھ کر ان کے درمیان مستقل رفاقت کا ایسا رشتہ جوڑ دیتی ہیں جو دو الگ ماحولوں میں پرورش پائے ہوئے اجنبیوں کو ملا کر کچھ اس طرح پیوستہ کرتا ہے کہ عمر بھر وہ زندگی کے منجدھار میں اپنی کشتی ایک ساتھ کھینچتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ محبت و رحمت جس کا تجربہ کروڑوں انسانوں کو اپنی زندگی میں ہو رہا ہے، کوئی مادّی چیز نہیں ہے جو وزن اور پیمائش میں  آسکے، نہ انسانی جسم کے عناصر ترکیبی میں کہیں اس کے سرچشمے کی نشان دہی کی جا سکتی ہے، نہ کسی لیبارٹری میں اس  کی پیدائش اور اس کی نشو ونما کے اسباب کا کھوج لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جا سکتی کہ ایک خالقِ حکیم نے بالارادہ ایک مقصد کے لیے پوری مناسبت کے ساتھ اسے نفسِ انسانی  میں ودیعت کر دیا ہے۔
  • [3] یعنی یہ انتظام الل ٹپ  نہیں  ہو گیا ہے کہ بلکہ بناے والے نے بالارادہ اِس غرض کے لیے یہ انتظام کیا ہے کہ مرد اپنی فطرت کے تقاضے عورت کے پاس، اور عورت اپنی فطرت کی مانگ مرد کے پاس پائے ، اور دونوں ایک دوسرے سے وابستہ ہر کر ہی سکون و اطمینان حاصل کریں۔ یہی وہ حکیمانہ تدبیر ہے جسے خالق نے ایک طرف انسانی نسل کے برقرار رہنے کا، اور دوسری طرف انسانی تہذیب و تمدن کو وجود میں لانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اگر یہ دونوں صنفیں محض الگ الگ ڈیزائنوں کے ساتھ پیدا کر دی جاتیں اور ان میں وہ اضطراب نہ رکھ دیا جاتا جو اُن کے باہمی اتصال و وابستگی کے بغیر مبدّل بسکون نہیں ہو سکتا، تو انسانی نسل تو ممکن ہے کہ بھیڑ بکریوں کی طرح چل جاتی، لیکن کسی تہذیب و تمدّن کے وجود میں آنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ تمام انواع حیوانی کے برعکس نوع انسانی میں تہذیب و تمدّن کے رونما ہونے کا بنیادی سبب یہی ہے کہ خالق نے اپنی حکمت سے مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے لیے وہ مانگ، وہ پیاس ، وہ اضطراب کی کیفیت رکھ دی  جسے سکون میسّر نہیں آتا جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جُڑ کر نہ رہیں۔ یہی سکون کی طلب ہے جس نے انہیں مل کر گھر بنانے پر مجبور کیا۔ اسی کی بدولت خاندان اور قبیلے  وجود میں آئے۔ اور اسی کی بدولت انسان کی زندگی میں تمدُّن کا نشوو نما ہوا۔ اس نشو ونما میں انسان کی ذہنی صلاحیتیں مددگار ضرور ہوئی ہیں مگر وہ اس کی اصلی محرک نہیں ہیں۔ اصل محرک یہی اضطراب ہے جسے مرد و عورت کے وجود میں ودیعت کر کے انہیں ”گھر“ کی تاسیس پر مجبور ر دیا گیا۔ کون صاحبِ عقل یہ سوچ سکتا ہے کہ دانائی کا یہ شاہکار فطرت کی اندھی طاقتوں سے محض اتفاقًا سر زد ہو گیا ہے؟ یا بہت سے خدا یہ انتظام کر سکتے تھے کہ اس  گہرے حکیمانہ مقصد کو ملحوظ  رکھ کر ہزار ہا برس سے مسلسل بے شمار مردوں اور بے شمار عورتوں کو یہ خاص اضطراب لیے ہوئے پیدا کر تے چلے جائیں؟ یہ تو ایک حکیم اور ایک ہی حکیم کی حکمت کا صریح نشان ہے جسے صرف عقل کے اندھے ہی دیکھنے سے انکار کر سکتے ہیں۔