Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ar-Rum — Ayah 22

30:22
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفُ أَلۡسِنَتِكُمۡ وَأَلۡوَٰنِكُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡعَٰلِمِينَ ٢٢
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین  کی پیدائش،1 اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے۔2 یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانشمند لوگوں کے لیے
Footnotes
  • [1] یعنی با وجود یکہ تمہارے قوائے نطقیہ یکساں ہیں، نہ منہ اور زبان کی ساخت میں کوئی فرق ہے اور نہ دماغ کی ساخت میں، مگر زمین کے مختلف خِطّوں میں تمہاری زبانیں مختلف ہیں، پھر ایک ہی زبان بولنے والے علاقوں میں شہر شہر اور بستی بستی کی بولیاں مختلف ہیں، اور مزید یہ کہ ہر شخص کا لہجہ اور تلفظ اور طرزِ گفتگو دوسرے سے مختلف ہے۔ اِسی طرح تمہارا مادّہ ٔ تخلیق اور تمہاری بناوٹ کا فارمولا ایک ہی ہے، مگر تمہارے رنگ اس قدر مختلف ہیں کہ قوم اور قوم تو درکنار، ایک ماں باپ کے دو بیٹوں کا رنگ بھی بالکل یکساں نہیں ہے۔ یہاں نمونے کے طور پر صرف دو ہی چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ لیکن اسی رُخ پر آگے بڑھ کر دیکھیے تو دنیا میں آپ ہر طرح اتنا تنوُّع (Variety ) پائیں گے کہ اس کا احاطہ مشکل ہو جائے گا۔ انسان، حیوان، نباتات اور دوسری تمام اشیاء کی جس نوع کو بھی آپ لے لیں اس کے افرا د میں بنیادی یکسانی کے باوجود بے شمار اختلافات موجود ہیں، حتّٰی کہ کسی نوع کا بھی کوئی ایک فرد دوسرے سے بالکل مشابہہ نہیں ہے، حتیٰ کہ ایک درخت کے دو پتوں میں بھی پوری مشابہت نہیں پائی جاتی۔ یہ چیز  صاف بتا رہی ہے کہ یہ دنیا کوئی ایسا کارخانہ نہیں ہے جس میں خود کار مشینیں چل رہی ہوں اور کثیر پیدا آوری(Mass Production ) کے طریقے پر ہر قسم کی اشیاء کا بس ایک ایک ٹھپّہ ہو جس سے ڈھل ڈھل کر ایک ہی طرح کی چیزیں نکلتی چلی آرہی ہوں۔ بلکہ یہاں ایک ایسا زبردست کاریگر کام کر رہا ہے جو ہر ہر چیز کو پوری انفرادی توجہ کے ساتھ ایک نئے ڈیزائن ، نئے نقش و نگار، نئے تناسُب اور نئے اوصاف کے ساتھ بناتا ہے اور اس کی بنائی ہوئی ہر چیز اپنی جگہ منفرد ہے۔ اس کی قوت ایجاد ہر آن ہر چیز کا ایک نیا ماڈل نکال رہی ہے، اور اس کی صناعی ایک ڈیزائن کو دوسری مرتبہ دوہرانا  اپنے کمال کی توہین سمجھتی ہے۔ اس حیرت انگیز منظر کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر دیکھے گا وہ کبھی اس احمقانہ تصور میں مبتلا نہیں ہو سکتا کہ اس کائنات کا بنانے والا ایک دفعہ اس کارخانے کو چلا کر کہیں جا سویا ہے۔ یہ تو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ ہر وقت کارِ تخلیق میں لگا ہوا ہے اور اپنی خلق کی ایک ایک چیز پر انفرادی توجہ صرف کر رہا ہے۔
  • [2] یعنی اُن کا عدم سے وجود میں آنا ، اور ایک اٹل ضابطے پر ان کا قائم ہونا، اور بے شمار قوتوں کا ان کے اندر انتہائی تناسُب و توازُن کے ساتھ کام کرنا، اپنے اندر اس بات کی بہت سی نشانیاں رکھتا ہے کہ اس پوری کائنات کو ایک خالق اور ایک ہی خالق وجود میں لایا ہے، اور وہی اس عظیم الشان نظام کی تدبیر کر رہا ہے۔ ایک طرف اگر اس بات پر غور کیا  جائے کہ وہ ابتدائی قوت (Energy ) کہاں سے آئی جس نے مادّے کی شکل اختیار کی، پھر مادّے کے یہ بہت سے عناصر کیسے بنے، پھر ان عناصر کی اس قدر حکیمانہ ترکیب سے اتنی حیرت انگیز مناسبتوں  کے سساتھ یہ مدہوش کن نظامِ عالم کیسے بن گیا، اور اب یہ نظام کروڑ ہا کروڑ صدیوں سے کس طرح ایک زبردست قانونِ فطرت کی بندش میں کسا ہو ا چل رہا ہے، تو ہر غر متعصب عقل اس نتیجے پر پہنچے گی کہ یہ سب کچھ کسی علیم و حکیم کے غالب ارادے کے بغیر محض بخت و اتفاق کے نتیجے میں نہیں ہو سکتا۔ اور دوسری طرح اگر یہ دیکھا جائے کہ زمین سے لے کر کائنات کے بعید ترین سیاروں تک سب ایک ہی طرح کے عناصر سے مرکب ہیں اور ایک ہی قانونِ فطرت ان میں کار فرما ہے تو ہر عقل جو ہٹ دھرم نہیں ہے، بلا شبہہ یہ تسلیم کرے گی کہ یہ سب کچھ بہت سے خداؤں کی خدائی کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ ایک ہی خدا اِس پوری کائنات کا خالق اور ربّ ہے۔