لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتے ہیں،1 پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انھیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں2
Footnotes
[1]
یعنی پھر دوسرے معبودوں کی نذریں اور نیازیں چڑھنی شروع ہو جاتی ہیں اور کہا جانے لگتا ہے کہ یہ مصیبت فلاں حضرت کے طفیل اور فلاں آستانے کے صدقے میں ٹلی ہے۔
[2]
یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ ان کے دل کی گہرائیوں میں توحید کی شہادت موجود ہے۔ امیدوں کےسہارے جب بھی ٹوٹنے لگتے ہیں، ان کا دل خود ہی اندر سے پکارنے لگتا ہے کہ اصل فرمانروائی کائنات کے مالک ہی کی ہے اور اسی کی مدد ان کی بگڑی بنا سکتی ہے۔