(اے نبیؐ)تم مُردوں کو نہیں سُنا سکتے،1 نہ اُن بہروں کو اپنی پُکار سُنا سکتے ہو جو پیٹھ پھیرے چلے جارہے ہوں2
Footnotes
[1]
بہروں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دلوں پر ایسے قفل چڑھا رکھے ہیں کہ سب کچھ سن کر بھی وہ کچھ نہیں سنتے۔ پھر جب ایسے لوگ یہ کوشش بھی کریں کہ دعوتِ حق کی آواز سرے سے ان کے کان میں پڑنے ہی نہ پائے، اور داعی کی شکل دیکھتے ہی دور بھاگنا شروع کر دیں تو ظاہر ہے کہ کوئی انہیں کیا سنائے اور کیسے سنائے؟
[2]
یہاں مُردوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر مر چکے ہیں ، جن کے اند راخلاقی زندگی کی رمق بھی باقی نہیں رہی ہے ، جن کی بندگی ٔ نفس اور ضد اور ہٹ دھرمی نے اُس صلاحیت ہی کا خاتمہ کر دیا ہے جو آدمی کو حق بات سمجھنے اور قبول کرنے کے قابل بناتی ہے۔