Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Sad — Ayah 71

38:71
إِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن طِينٖ ٧١
جب تیرے ربّ نے فرشتوں سے کہا”1 میں مٹّی سے ایک بشر بنانے والا ہوں،2
Footnotes
  • [1]  بَشَر کے لغوی معنی ہیں جسم کثیف جس کی ظاہری سطح کسی دوسری چیز سے ڈھکی ہوئی نہ ہو۔ انسان کی تخلیق کے بعد تو یہ لفظ انسان ہی کے لیے استعمال ہونے لگا ہے ۔ لیکن تخلیق سے پہلے اس کا ذکر لفظ بشر سے کرنے اور اس کو مٹی سے بنانے کا صاف مطلب یہ ہے کہ ’’ میں مٹی کا ایک پُتلا بنانے والا ہوں جو بال و پر سے عاری ہو گا۔ یعنی جس کی جلد دوسرے حیوانات کی طرح اُون، یا صوف یا بالوں اور پروں سے ڈھکی ہوئی نہ ہو گی۔‘‘
  • [2]  یہ جھگڑے کی تفصیل ہے جس کی طرف اوپر کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور جھگڑے سے مراد شیطان کا خدا سے جھگڑا ہے جیسا کہ آگے کے بیان سے ظاہر ہو رہا ہے ۔ اس سلسلے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ ’’ ملاءِ اعلیٰ‘‘ سے مراد فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطان کا مکالمہ دو بدو نہیں بلکہ کسی فرشتے ہی کے توسط سے ہوا ہے ۔ اس لیے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بھی ملاء اعلیٰ میں شامل تھا۔ جو قصہ یہاں بیان کیا جا رہا ہے وہ اس سے پہلے حسب ذیل مقامات پر گزر چکا ہے : تفہیم القرآن جلد اول، ص 61 تا 69۔ جلد دوم، صفحات 10 تا 18۔504 تا 507۔ 627 تا 630۔جلد سوم صفحات 29۔30۔129 تا 136۔