Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ghafir — Ayah 13

40:13
هُوَ ٱلَّذِي يُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ رِزۡقٗاۚ وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَن يُنِيبُ ١٣
وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے1 اور آسمان سے تمہارےلیے رزق نازل کرتا ہے،2 مگر (اِن نشانیوں کے مشاہدے سے)سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔3
Footnotes
  • [1]  رزق سے مراد یہاں بارش ہے، کیونکہ انسان کو جتنی اقسام کے رزق بھی دنیا میں ملتے ہیں ان سب کا مدار آخر کار بارش پر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی بے شمار نشانیوں میں سے تنہا اس ایک نشانی کو پیش کر گے لوگوں کو توجہ دلاتا ہے کہ صرف اسی ایک چیز کے انتظام پر تم غور کرو تو تمہاری سمجھ میں آ جاۓ کہ نظام کائنات کے متعلق جو تصور تم کو قرآن میں دیا جا رہا ہے وہی حقیقت ہے۔ یہ انتظام صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا تھا جبکہ زمین اور اس کی مخلوقات اور پانی اور ہا اور سورج اور حرارت و برودت سب کا خالق ایک ہی خدا ہو۔ اور یہ انتظام صرف اسی صورت میں لاکھوں کروڑوں برس تک پیہم ایک باقاعدگی سے چل سکتا ہے جس نے زمین میں انسان اور حیوانات اور نباتات کو جب پیدا کیا تو ٹھیک ٹھیک ان کی ضروریات کے مطابق پانی بھی بنایا اور پھر اس پانی کو باقاعدگی سے ساتھ روۓ زمین پر پہنچانے اور پھیلانے کے لیے یہ حیرت انگیز انتظامات کیے۔ اب اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو یہ سب کچھ دیکھ کر بھی خدا کا انکار کرے، یا اس کے ساتھ کچھ دوسرے ہستیوں کو بھی خدائی میں شریک ٹھیراۓ۔
  • [2]  یعنی خدا سے پھرا ہوا آدمی، جس کی عقل پر غفلت یا تعصب کا پردہ پڑا ہوا ہو، کسی چیز کو دیکھ کر بھی کوئی سبق نہیں لے سکتا۔ اس کی حیوانی آنکھیں یہ تو دیکھ لیں گی کہ ہوئیں چلیں، بادل آۓ، کڑک چمک ہوئی، اور بارش ہوئی۔ مگر اس کا انسانی دماغ کبھی یہ نہ سوچے گا کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے، کون کر رہا ہے اور مجھ پر اس کے کیا حقوق ہیں۔
  • [3]  نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ اس کائنات کا صانع اور مدبر منتظم ایک خدا  اور ایک ہی خدا ہے۔