Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ghafir — Ayah 15

40:15
رَفِيعُ ٱلدَّرَجَٰتِ ذُو ٱلۡعَرۡشِ يُلۡقِي ٱلرُّوحَ مِنۡ أَمۡرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ لِيُنذِرَ يَوۡمَ ٱلتَّلَاقِ ١٥
وہ بلند درجوں والا،1 مالکِ عرش ہے۔2 اپنے بندوں میں سے جس  پر چاہتا ہے اپنے حکم سے رُوح نازل کردیتا ہے3 تاکہ وہ ملاقات کے دن4 سے خبردار کر دے
Footnotes
  • [1]  روح سے مراد وحی اور نبوت ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ  ہو جلد دوم، صفحات 524۔ 639) اور یہ ارشاد کہ اللہ  اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے یہ روح نازل کرتا ہے، اس معنی میں ہے کہ اللہ کے فضل پر کسی کا اجارہ نہیں ہے۔ جس طرح کوئی شخص یہ اعتراض کرنے کا حق نہیں رکھتا کہ فلاں شخص کو حسن کیوں دیا گیا اور فلاں شخص کو حافظہ یا ذہانت کی غیر معمولی قوت کیوں عطا کی گئی، اسی طرح کسی کو یہ اعتراض کرنے کا بھی حق نہیں ہے کہ منصب نبوت کے لیے فلاں شخص ہی کو کیوں چنا گیا اور جسے ہم چاہتے تھے اسے کیوں نہ نبی بنایا گیا۔
  • [2]  یعنی جس روز تمام انسان اور جن اور شیاطین بیک وقت اپنے رب کے سامنے جمع ہوں گے اور ان کے اعمال کے سارے گواہ بھی حاضر ہوں گے۔
  • [3]  یعنی ساری کائنات کا بادشاہ فرمانروا ہے۔ کائنات کے تخت سلطنت کا مالک ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد دوم، صفحات 36۔262۔ 441۔ جلد سوم، ص 87)
  • [4]  یعنی تمام کو موجودات سے اس کا مقام بدر جہا بلند ہے۔ کوئی ہستی بھی جو اس کائنات میں موجود ہے، خواہ وہ کوئی فرشتہ ہو یا نبی یا ولی، یا اور کوئی مخلوق، اس کا مقام دوسری مخلوقات کے مقابلے میں چاہے کتنا ہی ارفع و اشرف ہو، مگر اللہ تعالیٰ کے بلند ترین مقام سے اس کے قریب ہونے تک کا تصور نہیں کیا جا سکتا کجا کہ خدائی صفات و اختیارات میں اس کے شریک ہونے کا گمان کیا جا سکے۔