[1]دوبارہ زندگی:یعنی جس نے ایک مرتبہ جلایا اور مارا۔ اسی کو اختیار ہے کہ جب چاہے دوبارہ زندہ کرکے قبر سے نکالے۔ کیونکہ اس کی قدرت اب کسی نے سلب نہیں کرلی (العیاذ باللہ) بہر حال پیدا کرکے دنیا میں لانا، پھر مارکر برزخ میں لیجانا، پھر زندہ کرکے میدانِ حشر میں کھڑا کر دینا، یہ امور جس کے قبضہ میں ہوئے کیا اس کی نصیحت سے اعراض و انکار اور اس کی نعمتوں کا استحقار کسی آدمی کے لئے زیبا ہے۔